بادلوں کو ایک شخص کے باغ کو سیراب کرنے کا حکم
ایک شخص اپنی پیداوار کے تین حصے کرتا تھا
ایک حصہ اپنے کھانے اور اپنے بال بچوں ککھانے کے لئے
اور ایک حصہ اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کیلئے نکالتا تھا،
اور ایک حصہ باغ کی دیکھ بھال کیلئے وہ ہمیشہ ایسا ہی کرتا تھا
اس لئے اس کے کھیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکت
ہوتی اور اس کی کھیتی ہمیشہ سرسبز رہتی اگر اس کے پاس پانی
نہ رہتا تو دوسری جگہ پانی برس کر اور بہہ کر اس کے کھیت میں
آجاتا، ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ ایک شخص جنگل میں جارہا تھا
اچانک اس کے کان میں ایک آواز آئی کہ کوئی بادلوں سے کہہ
رہا ہے
اسق حديقة فلان ، فلان کے باغ کو سیراب کرو اس باغ
والے کا نام بھی لیا گیا. چنانچہ اس بادل نے وہاں سے ہٹ
کر ایک پتھریلی زمین پر جا کر خوب موسلا دھار پانی برسایا وہ
پانی رہ کر ایک نہر میں جا پہنچا، وہ نہر اس شخص کے باغ میں
آتی تھی۔ یہ شخص اس پانی کے ساتھ چلا کہ دیکھیں کیا ماجرا
ہے؟ اور کس بزرگ کی کرامت ہے؟ وہ نہر کے کنارے
کنارے چل کر اس باغ میں پہنچ گئے. یہ پانی اس باغ میں
نالیوں کے ذریعے پہنچ گیا اس باغ میں ایک بزرگ پانی کو
ادھر ادھر کر رہے تھے۔ اس راہ گیر مسافر نے ان سے
دریافت کیا کہ حضرت آپ کا نام کیا ہے؟ اس بزرگ نے
وہی نام بتایا جو اس نے بادلوں میں سنا تھا۔ اس بزرگ نے
راہ گیر سے فرمایا: آپ میرا نام دریافت کیوں کرتے ہیں؟ اس
مسافر نے کہا: میں نے اس بادل میں سے جس کا یہ پانی ہے
ایک آواز سنی کہ فلاں شخص کے باغ کو سیراب کرو! اس
نے آپ ہی کا نام بتایا تھا وہ بادل ہر سال اور پانی اس شہر
میں بہہ کر آیا۔ اس عجیب و غریب واقعہ کی تلاش کے لئے
میں پانی کے ساتھ ساتھ آیا کہ میں چل کر معلوم کروں کہ وہ
کیسے بزرگ ہیں تو حضرت آپ کیا کرتے ہیں اس بزرگ نے
فرمایا کہ جب آپ نے دریافت کر لیا ہے تو میں کہتا ہوں کہ
اس میں اس کے تین حصے کر ڈالتا ہوں، ایک حصہ اپنے
بچوں کیلئے اور ایک حصہ باغ کے خرچ کے لئے اور ایک
حصہ اللہ تعالی کے راستے میں خرچ کر ڈالتا ہوں.
(مسلم)
اس لئے جب میرے باغ کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے تو
قدرت کی طرف سے اس کا انتظام ہو جاتا ہے۔
صحیح اسلامی واقعات اصلیہ نمبر 133-135)

0 Comments